Ghazal - Dar e Divaar Mein
May 19, 2007 on 6:10 pm | In Hum Uss Kay Hein |درو دیوار میں ،مکان نہیں
واقعہ ہے ،یہ داستان نہیں
وقت کرتا ہے ہر سوال کو حل
زیست مکتب ہے امتحان نہیں
ہر قدم پر اک نئی منزل
راستوں کا کہیں نشان نہیں
رنگ بھی زندگی کے مظہر ہیں
صرف آنسو ہی ترجمان نہیں
دل سے نکلی ہوئی سدا کے لیے
کچھ بہت دُور آسمان نہیں
کل کو ممکن ہے اک حقیقت ہو
آج جس بات کا گمان نہیں
شور کرتے ہیں ٹوٹتے رشتے
ہم کو گھر چاہیے مکان نہیں
خواب ، ماضی! سراب، مستقبل!
اور " جوہے" وہ میری جان"نہیں"
اتنے تارے تھے رات لگتا تھا
کوئی میلہ ہے آسمان نہیں
شاخ سدرہ کو چھو کے لوٹ آیا
اس سے آگے میری اُڑان نہیں
یوں جو بیٹھے ہو بے تعلق سے
کیا سمجھتے ہو میری زبان نہیں
کوئی دیکھے تو موت سے بہتر
زیست کا کوئی پاسبان نہیں
اک طرف میں ہوں اک طرف تم ہو
سلسلہ کوئی درمیان نہیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^