Ghazal - Ishq Na Poochay Zaat
May 19, 2007 on 6:05 pm | In Hum Uss Kay Hein |سب کی اِک اوقات " عشق نہ پُو چھے ذات"
بالکل بُھول گئے کرنی تھی کیا بات
سَستا کر دے گئی زر کی یہ افراط!
اَب سے تیرے ہیں میرے دن اور رات
سچُے جذبوں سے مہنگی ہوگئی دھات
اب کے خُوب ہوئی بِن موسم برسات
کٹ ہی جاتی ہے کیسی بھی رات !
باسی ہوئی جائے دل میں رکھی بات
کچّی ڈور، میاں! کب تک دیتی ساتھ!
گِر ہیں کھولے گا جانے کب وہ ہاتھ !
تجھ کو چاہوں مَیں کیا میری اوقات!
کیسے اُجڑ گئے ؟ خوابوں کے باغات
(ق)
وقت سمندر میں ایک سے ہیں دن رات
آگے گہری کھائی پیچھے ہے ظُلمات!
_____
غم کے دھاگوں سے امجد خوشیاں کاٹ !
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^