Ghazal - Dard e Dil Ka
May 19, 2007 on 5:53 pm | In Hum Uss Kay Hein |درد دل کا جہاں رواج نہیں
ایک انبوہ ہے ، سماج نہیں
اے غمِ ہجرِ یار ، یہ تو بتا
کیا تجھے کوئی کام کاج نہیں !
وہ ہے ہر جائی ، یہ بجا ، لیکن
دِل بھی تو مستقل مزاج نہیں
تیرے غم کے سِوا زمانے میں
کون سے درد کا علاج نہیں!
حِرص کھا جاتی ہے غریب کا رِزق
ورنہ کچھ کم تو یاں اناج نہیں
تیری آنکھوں سی ، دوسری آنکھیں
شاید ہوں گی کبھی ، پر آج ، نہیں
مملک حُسن سہی نہیں کوئی
عشق سا کوئی تخت و تاج نہیں
(ق)
کون سی آنکھ ہے تہی تجھ سے !
کون سے دل پہ تیرا راج نہیں !
اے خُدا ، اے مرے ہُنر کے خُدا
اور کُچھ میری احتیا ج نہیں !
بستیوں کو نہ پستیوں میں رکھ
التجا ہے یہ ، احتجاج نہیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^