Ghazal - Aflaak Ka Saya Hai
May 19, 2007 on 5:51 pm | In Hum Uss Kay Hein |افلاک کا سایا ہے جو کُچھ بھی زمیں پر ہے
ہے خواب کہیں میرا تعبیر کہیں پر ہے
کُچھ ایسی نظر ڈالی ہنگامِ و داع اُس نے
میں خُود تو چلا آیا دل اب بھی وہیں پر ہے
اے فکرِ سماواتی ، اے طائرلاہُوتی !
پرواز سے کیا حاصل ! جو کُچھ ہے زمیں پر ہے
" موجود" میں رہنے سے " آئیندہ " نہیں ملتا
اثبات کا ہر جلوہ موقوف " نہیں " پر ہے
اُس لمحے کے جادُوسے پھر وقت نہیں نِکلا
جو چیز جہاں پر تھی وہ چیز وہیں پر ہے
چاہے تو یونہی رکھے ‘ چاہے تو سَحر کردے
اِس رات کا مُستقبل اُس ماہ جبیں پر ہے
اِس عُمر کی فُرصت میں ہر چیز کا ہونا ہے
جنّت بھی یہیں ہوگی ! دوزخ جو یہیں پر ہے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^