Ghazal - Karta hoon Jama Mein
May 19, 2007 on 5:50 pm | In Hum Uss Kay Hein |کرتا ہُوں جمع میں تو بِکھر تی ہے ذات اور
باقی ہے کِتنی اے مرے مولا ، یہ رات اور !
لیتی ہے جلتی شمع بھی بُجھنے میں کُچھ تو وقت
ہے آدمی سا کوئی کہاں بے ثبات اور !
سیلاب جیسے لیتا ہے دیوار کے قدم
کرتا ہے غم بھی دل سے کوئی واردات اور
یوں تو حضورِ پاک کے لاکھوں ہیں مدح خواں
تائب سی لِکھ رہا ہے مگر کون ، نعت اور!
مظہر ، اَزل کے حُسن کے امجد ہیں بے شُمار
لیکن جو دیکھئے تو ہے بارش کی بات اور
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^