Ghazal - Shumar e Gardish e Lail o Nehaar
May 19, 2007 on 5:49 pm | In Hum Uss Kay Hein |شمارِ گردش لیل و نہار کرتے ہُوئے
گُزر چلی ہے ترا انتظار کرتے ہُوئے
خُدا گواہ ، وہ آسُودگی نہیں پائی
تمہارے بعد کسی سے بھی پیار کرتے ہوئے
اَزل سے یونہی چلی آرہی ہے یہ دُنیا
اِسے نِہال ، اُسے بے قرار کرے ہُوئے
تمام اہلِ سَفر ایک سے نہیں ہوتے
کُھلا یہ وقت کے دریا کو پار کرتے ہوئے
ق
عجب نہیں کبھی گُزرے ترے خیال کی رَو
مِرے گمان کے طائر شکار کرتے ہُوئے
کہیں چُھپائے مرے سامنے کے سب منظر
مجھے ، مجھی پہ کبھی آشکار کرتے ہُوئے
______
کِسے خبر ہے کہ اہلِ چمن پہ کیا گزری !
خزاں کی شام کو صبحِ بہار کرتے ہُوئے
ہَوس کی اور لُغت ہے ‘ وفا کی اورزباں
یہ راز ہم پہ کُھلا ، انتظار کرتے ہُوئے
عجیب شے ہے محبت کہ شاد رہتی ہے
تباہ ہوتے ہوئے اور غبار کرتے ہُوئے
ق
جو ہوسکے تو کبھی میر جی سے یہ پُوچھیں
یہ جان اُن کی غزل پرنثار کرتے ہُوئے
یہ کار خانہ اگر سرتا پا تو ہّم ہے ؟
تو لوگ کیسے چلیں ، اعتبار کرتے ہوئے
______
ہمارے بس میں کوئی فیصلہ تھا کب امجد !
جُنوں کے چُنتے ، وفا اختیار کرتے ہُوئے !
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^