Ghazal - Dil Ko Hisaar e Runj
May 19, 2007 on 5:44 pm | In Hum Uss Kay Hein |دِل کو حصارِ رنج و اَلم سے نِکال بھی
کب سے بِکھر رہا ہوں مجھے اب سنبھال بھی
آہٹ سی اُس حسین کی ہر سُو تھی ، وہ نہ تھا
ہم کو خُوشی کے ساتھ رہا اِک ملال بھی
سب اپنی اپنی موجِفنا سے ہیں بے خبر
میرا کمالِ شاعری ، تیرا جمال بھی
حُسنِ اَزل کی جیسے نہیں دُوسری مثال
ویسا ہی بے نظیر ہے اُس کا خیال بھی !
مت پُوچھ کیسے مرحلے آنکھوں کو پیش تھے
تھا چودھویں کا چاند بھی ، وہ خُوش جمال بھی
جانے وہ دن تھے کون سے اور کون سا تھا وقت!
گَڈ مڈ سے اب تو ہونے لگے ماہ و سال بھی !
اِک چشمِ التفات کی پیہم تلاش میں
ہم بھی اُلجھتے جاتے ہیں ، لمحوں کا جال بھی !
دنیا کے غم ہی اپنے لیے کم نہ تھے کہ اور
دل نے لگالیا ہے یہ تازہ وبال بھی !
اِک سر سری نگاہ تھی ، اِک بے نیاز چُپ
میں بھی تھا اُس کے سامنے ، میرا سوال بھی !
آتے دنوں کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ کُھلے
سب کچھ فنا کا رِزق ہے ماضی بھی حال بھی !
تم دیکھتے تو ایک تماشے سے کم نہ تھا
آشتگانِ دشتِ محبّت کا حال بھی !
اُس کی نگاہِ لُطف نہیں ہے ، تو کُچھ نہیں
امجد یہ سب کمال بھی ، صاحبِ کمال بھی !
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^