Ghazal - Jo Daikhnay Ka Tumhein
May 19, 2007 on 5:44 pm | In Hum Uss Kay Hein |جو دیکھنے کا تمھیں اہتمام کرتے ہیں
زمیں سے جُھک کے ستاروں کلام کرتے ہیں
تو آؤ آج سے ہم ایک کام کرتے ہیں
وفا کے نام سبھی صبح و شام کرتے ہیں
یہ راستہ ہے مگر ہجرتی پرندوں کا
یہاں سمے کے مُسافرقیام کرتے ہیں
وفا کی قبر پہ کب تک اِسے جلا رکھیں
سو یہ چراغ ہواؤں کے نام کرتے ہیں
کبھی جو بام پہ ٹھر ے تو چاند رُک جائے
غزال دیکھ کے اُس کو خرام کرتے ہیں
(ق)
یہ اہلِ درد کی بستی ہے زرگوں کی نہیں
یہاں دِلوں کا بہت احترام کرتے ہیں
جہاں پنا ہوں کی جانب نظر نہیں کرتے
غریب شہر کو جُھک کر سلا م کرتے ہیں
ہے اِن کی چشمِ توجّہ میں روشنی ایسی
کہ جیسے اِس میں ستارے قیام کرتے ہیں
یہاں پہ سِکّئہ اہلِ ریا نہیں چلتا
کہ اہلِ درد نظر سے کلام کرتے ہیں
یہ حق پرست ہیں کیسے عجیب سو دا گر
فنا کی آڑ میں کارِ دوام کرتے ہیں
جہاں جہاں پہ گِرا ہے لہو شہید وں کا
وہاں وہاں پہ فرشتے سلام کرتے ہیں
نہ گھر سے اِن کو ہے نسبت نہ کوئی نام سے کام
دِلوں میں بستے ، نظرمیں مقام کرتے ہیں
رواجِ اہلِ جہاں سے انھیں نہیں مَطلب
کہ یہ تو رسمِ محبت کو عام کرتے ہیں
جہاں میں ہوتے ہیں ایسے بھی کُچھ ہُنر والے
جا اِک نگاہ میں اَمجدغلام کرتے ہیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^