Ghazal - Hissab e Umar Ka
May 19, 2007 on 5:43 pm | In Hum Uss Kay Hein |حسابِ عُمر کا اِتنا سا گوشوار ہے
تمہیں نکال کے دیکھاتو سب خسارا
کسی چراغ میں ہم ہیں ، کسی کنول میں تُم
کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا
وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشّے میں
تمام عُمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے
ہر اک صدا جو ہمیں باز گشت لگتی ہے
نجانے ہم ہیں دو بارا کہ یہ دوبارا ہے !
وہ منکشف مِری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں
ہر ایک حُسن کسی حُسن کا اشارا ہے
عجب اُصول ہیں اِس کا روبارِ دُنیا کے
کِسی کا قرض کِسی اور نے اُتارا ہے
کہیں پہ ہے کوئی خوشبو کہ جِس کے ہونے کا
تمام عالمِ موجود ، استعارا ہے
نجانے کب تھا ! کہاں تھا ! مگر یہ لگتا ہے
یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گذاراہے
یہ دو کنارے تو دریا کے ہوگئے ، ہم تم !
مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے !
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^