Ghazal - Aye Gardish e Hayaat
May 19, 2007 on 5:43 pm | In Hum Uss Kay Hein |اے گردشِ حیات کبھی تو دِکھا وہ نیند
جِس میں شبِ وصال کا نشّہ ہو ‘ لا وہ نیند
ہرنی سی ایک آنکھ کی مستی میں قید تھی
اِک عُمر جس کی کھوج میں پھر تا رہا ، وہ نیند
پُھو ٹیں گے اَب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب!
آئے گی اب نہ لَوٹ کے آنکھوں میں کیا ، وہ نیند !
کُچھ رَت جگے سے جاگتی آنکھوںمیں رہ گئے
زنجیر انتظار کا تھا سلسلہ ، وہ نیند
دیکھا کُچھ اِس طرح سے کِسی خُوش نگاہ نے
رُخصت ہُوا تو ساتھ ہی لیتا گیا وہ ، نیند
خُوشبو کی طرح مُجھ پہ جو بِکھری تما شب
میںاُس کی مَست آنکھ سے چُنتا رہا ‘ وہ نیند
گُھومی ہے رتجگوں کے نگر میں تمام عُمر
ہر رہگذارِ درد سے ہے آشنا ‘ وہ نیند
تُو جس کے بعد حشر کا میلہ سجائے گا !
میں جس کے انتظار میں ہُوں ‘ اے خُدا ، وہ نیند !
امجد ہماری آنکھ میں لَوٹی نہ پھر کبھی
اُس بے وفا کے ساتھ گئی بے وفا ، وہ نیند
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^