Ghazal - Ehal e Nazar Ki Ankh Mein
May 19, 2007 on 5:42 pm | In Hum Uss Kay Hein |اہلِ نظر کی آنکھ میں تاج و کلاہ کیا !
سایا ہو جن پہ درد کا ، اُن کو پناہ کیا ؟
ٹھرا ہے اِک نگاہ پہ سارا مقدّمہ
کیسے وکیل ! کون سا مُنصب ! گواہ کیا !
کرنے لگے ہو آٹھویں پہر کیوں خُدا کو یاد ؟
اُس بُت سے ہوگئی ہے کوئی رسم وراں کیا ؟
اے ربِّ عدل تُو مری فردِ عمل کو چھوڑ
بس یہ بتا کہ اِس میں ہے میرا گُناہ کیا ؟
سارے فراق سال دُھو اں بن کے اُڑگئے
ڈالی ہمارے حال پہ اُس نے نگاہ کیا !
کیا دل کے بعد آبرو ئے دِل بھی رَول دیں
دکھلائیں اُس کو جاکے یہ حالِ تباہ کیا ؟
جو جِتنا کم بساط ہے ، اُتنا ہے معتبر
یارو یہ اہلِ فقر کی ہے بارگاہ ،کیا !
کیسے کہیں کہ کر گئی اِک ثانیے کے بِیچ
جادُو بھری وہ آنکھ ، وہ جُھکتی نگاہ کیا !
(ق)
وہ بر بنائے جبر ہو یا اقتضائے صبر
ہر بُو لہوس سے کرتے رہو گے نباہ کیا ؟
ہر شے کی مثل ہو گی کوئی بے کسی کی حد !
اِس شہرِ بے ہُنر کا ہے دِن بھی سیا ہ کیا ؟
رستے میں تھیں غنیم کے پُھو لوں کی پتّیاں
سالار بِک گئے تھے تو کرتی سپاہ کیا !
دِل میں کوئی اُمّید نہ آنکھوں میں روشنی
نکلے گی اِس طرح کوئی جینے کی راہ کیا ؟
امجد نزولِ شعر کے کیسے بنیں اُصول !
سیلاب کے لیے ہوتی ہے راہ کیا ؟
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^