Ghazal - Humaray Saray Khwab Jaan
May 19, 2007 on 5:41 pm | In Hum Uss Kay Hein |ہمارے سارے خواب ‘ جاں !
تری ہی سمت رواں
یہی اُدھورے راستے
ہیں منزلوں کے ترجمان
بِچھی ہُوئی زمین پر
جُھکے ہیں سات آسماں
بنیں گی اَبر ایک دن
یہ چھو ٹی چھوٹی بدلیاں
ہے لفظ لفظ روشنی
صداقتوں کے درمیاں
(ق)
جو زندگی فروش تھے
وہی ہیں شہر کی زباں
جو خُود زمیں کا بوجھ ہیں
بنے ہیں میرِ کارواں
جو روشنی کے چَور تھے
وہی ہیں روشنی نشاں
(ق)
غلام سَر اُٹھائیں گے
کہاں تھا تخت کو گُماں!
زمین کھاگئی اُنھیں
جو بَن رہے تھے آسماں
جو زندگی کا حُسن تھے
وہ لوگ رہ گئے کہاں
بہت تلاش ہوچکی
بس اب تو تھک گئے میاں
کہاں ہیں میرے ہم نفس
کہاں ہیں میرے ہم زباں !
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^