Ghazal - Aab Tuk Na Khul Saka
May 19, 2007 on 5:39 pm | In Hum Uss Kay Hein |اَب تک نہ کُھل سکا کہ مرے رُو برو ہے کون !
کِس سے مکالمہ ہے ! پسِ گفتگو ہے کون !
سایا اگر ہے وہ تو ہے اُس کا بدن کہاں ؟
مرکز اگر ہوں میں تو مِرے چار سُو ہے کون !
ہر شے کی ماہیت پہ جو کرتا ہے تُو سوال
تجھ سے اگر یہ پُوچھ لے کوئی کہ تُوہے کون !
اشکوں میں جِھلملاتا ہُوا کِس کا عکس ہے !
تاروں کی رہگزار میں یہ ماہ رُو ہے کون !
باہر کبھی تو جھانک کے کھڑکی سے دیکھتے !
کِس کو پُکارتا ہُوا یہ کُو بہ کُو ہے کون !
آنکھوں میں را ت آگئی لیکن نہیں کُھلا
میں کِس کا مدّعا ہُوں؟ مِری جستجو ہے کون !
کِس کی نگاہِ لُطف نے موسم بدل دئیے
فصلِ خزاں کی راہ میں یہ مُشکبو ہے کون !
بادل کی اوٹ سے کبھی تاروں کی آڑ ے
چُھپ چُھپ کے دیکھتا ہُوا یہ حیلہ جُو ہے کون !
تارے ہیں آسمان میں جیسے زمیں پہ لوگ
ہر چند ایک سے ہیں مگر ہُو بہو ہے کون !
ہونا تو چاہیے کہ یہ میرا ہی عکس ہو !
لیکن یہ آئینے میں مِرے رُو بُرو ہے کون !
اِس بے کنار پَھیلی ہُوئی کائنات میں
کِس کو خبر کہ کون ہوں مَیں! اور تُوہے کون !
سارا فساد بڑھتی ہُوئی خواہشوں کا ہے
دِل سے بڑا جہان میں امجد عدُود ہے کون !
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^