Ghazal - Duniya Ka Kuch Bura Bhi Tamasha Nahi Raha
May 18, 2007 on 11:08 pm | In Hum Uss Kay Hein |دُنیا کا کچھ بُرا بھی تماشا نہیں رہا
دِل چاہتا تھا جس طر ح و یسا نہیں رہا
تُم سے ملے بھی ہم تو جُدائی کے موڑ پر
کشتی ہُوئی نصیب تو دریا نہیں رہا
کہتے تھے ایک پَل نہ جئیں گے ترے بغیر
ہم دونوں رہ گئے ہیں وہ وعدہ نہیں رہا
کاٹے ہیں اِس طرح سے ترے بعد روز و شب
میں سانس لے رہا تھا پہ زندہ نہیں رہا
آنکھیں بھی دیکھ دیکھ کے خواب آگئی ہیں تنگ
دِل میں بھی اب وہ شوق ‘ وہ لپکا نہیں رہا
کیسے ملائیں آنکھ، کسی آئنے سے ہم
امجد ہمارے پاس تو چہرہ نہیں رہا
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^