Ghazal - Jo Kuch Daikha Jo Soocha Hai
May 18, 2007 on 11:07 pm | In Hum Uss Kay Hein |جو کُچھ دیکھا جو سو چا ہے وُہی تحریر کرجا ئیں !
جو کاغذ اپنے حصّے کا ہے وہ کاغذ تو بھر جائیں !
نشے میں نیند کے تارے بھی ، اِک پہ گرتے ہیں
تھکن رستوں کی کہتی ہے چلو اب اپنے گھر جائیں
کُچھ ایسی بے حسی کی دُھند سی پھیلی ہے آنکھوں میں
ہماری صُورتیں دیکھیں تو آئینے بھی ڈر جائیں
نہ ہمت ہے غنیمِ وقت سے آنکھیں ملانے کی
نہ دِل میں حوصلہ اِتنا کہ مٹّی میں اُتر جائیں
گُلِ اُمید کی صُورت ترے باغوں میں رہتے ہیں
کوئی موسم ہمیں بھی دے کہ اپنی بات کرجائیں
دیارِ دشت میں ریگِ رواں ، جن کو بناتی ہے
بتا اے منزلِ ہستی کہ وہ رستے کدھر جائیں ؟
تو کیا اے قاسمِ اشیاء، یہی آنکھوں کی قسمت ہے !
اگرخوابوںسے خالی ہوں توپچھتاووںسے بھر جائیں!
اگر بخشش میں ملے امجد، تو اُس خُوشبو سے بہتر ہے
کہ اس بے فیض گلشن سے بندھی مُٹھی گزر جائیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^