Ghazal - Thaki thaki See Tunhai Hai
May 18, 2007 on 11:06 pm | In Hum Uss Kay Hein |تھکی تھکی سے تنہائی ہے گُھٹی گُھٹی بیزاری ہے
یہ کیسے گر د اب میں ہم نے کشتی خواب اُتاری ہے
شمس وقمر کے جادُو گھر میں ، بحرو بَر کی حیرت میں
یو ں لگتا ہے جیسے اب تک " کُن" کاکلمہ جاری ہے
خاک اور خُوں کا رِزق کیے ہیں کِتنے رنگ اور کِتنے نقش
صفحئہ جاں پر تب جا کر یہ اِک تصویر اُبھاری ہے
روح کے اندر جتنے دئیے ہیں سب ہی جلا لو آج کی رات
جاگنے والوآج کی شب کالمحہ لمحہ بھاری ہے
دشتِ وفا کے پیڑ عجب ہیں پھل بھی نہین چھاؤں بھی نہیں
اورسفر میں آنے والا اِک اِک چشمہ کھاری ہے
لَو یہ چراغِ آزادی کی امجد قائم دائم ہو
میرے بڑوں نے اپنے لہُو سے اس کی نذر اُتار ی ہے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^