Ghazal - Jah Ki Khawahish e Bayfaiz Pay marnay walay
May 18, 2007 on 11:04 pm | In Hum Uss Kay Hein |جاہ کی خواہش بے فیض پہ مرنے والے
کسی اِنسان کی عزّت نہیں کرنے والے
وہی اب شہر کی نظروں میں شناور ٹھرے
لبِ دریا جو کھڑے تھے کئی ڈر نے والے
کِس قدر خواب ابھی شعر بنانے ہیں، ہمیں
کِتنے خاکوں میں ابھی رنگ بھرنے والے!
وقت پر زور نہیں، عُمر چلی جاتی ہے
سینکڑوں کام پڑے ہیں ابھی کرنے والے
بُھول ہوگی تو اُسے دِل سے کریں گے تسلیم
ہم نہیں دوش کِسی اور پہ دھرنے والے
دیکھ لے آنکھ اُٹھا کر ہمیں اسے سیلِ ہوس
نہیں اِس شہر کے سب لوگ بِکھرنے والے
پیار بٹنے سے کبھی ختم نہ ہوگا امجد
دل کے دریا تو نہیں ہوتے اُترنے والے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^