Ghazal - Dil Tairi Bargah Mein Hai

May 18, 2007 on 11:03 pm | In Hum Uss Kay Hein |

دِل ترے غم کی بارگاہ میں ہے

جیسے قیدی حضورِ شاہ میں ہے

شہر والوں کو کُچھ خبر، ہی نہیں

کیسا سیلاب آج راہ میں ہے

ہے تعلق تو ایک سادہ لفظ

پھیر جو بھی ہے وہ نباہ میں ہے

حادثہ ہو چکا کہ ہونا ہے!

بِھیڑ کیسی یہ شاہراہ میں ہے !

سر میں بھی ہو یہ لازمی تو نہیں !

جو فضیلت کِسی کُلاہ میں ہے !

دیکھنے میں تو ایک ہے دریا

سطح پر وہ نہیں جو تھاہ میں ہے

ہم کِسی تیسرے کی منزل ہیں

دل کِسی دُوسرے کی راہ میں ہے

(ق)

رُوح درویش تو ہے لنگر میں

اور بدن اُس کا خانقاہ میں ہے

فیض وہ ہے جو خلق کو پُہنچے

کب یہ پتّھر کی بارگاہ میں ہے!

اُس کو رنگِ جہاں سے کیا ڈرنا

جو تری چشم پناہ میں ہے

(ق)

وہ سیاہی تو رات میں بھی نہیں

جو مِرے نامئہ سیاہ میں ہے

جیسے دُکّانِ شیشہ گر میں بیل

وقت، یوں دل کی کار گاہ میں ہے

گرد بادِ وفا کی منزل ہی

دامنِ دشتِ بے پناہ میں ہے

نارسا بخت کا گِلہ کیسا !

جب سفر ہی تمام راہ میں ہے

درد وہ مضمحل پرندہ ہے

جس کا گھر ہی دلِ تباہ میں ہے

کب سے میں نے  پَلک نہیں جھپکی !

کوئی امجد مِری نگاہ میں ہے !

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^