Ghazal - Hai Mohabbat Ka Silsala Kuch Aur
May 12, 2007 on 1:22 pm | In Hum Uss Kay Hein |ہے محبت کا سِلسلہ کچھ اور
درد کُچھ اور ہے دَوا کُچھ اور!
غم کا صحرا عجیب صحرا ہے
جتنا کا ٹا یہ بڑھ گیا کُچھ اور
کیسی قسمت ہے آنکھ والوں کی!
ہر تماشے میں دیکھنا کُچھ اور
عُمر ساری تضاد میں گزری
ہونا کُچھ اور، سوچنا کُچھ اور
بھیڑ میں آنسوؤں کی سُن نہ سکا
تم نے شاید کہا تو تھا کچھ اور !
کم نہیں وصل سے فراق ترا
اِس زیاں میں ہے فائدہ کُچھ اور
دل کِسی شے پہ مُطمئن ہی نہیں
مانگتا ہے یہ اژدہا، کُچھ اور
تیرے غم میں حسابِ عُمر رواں
جتنا جوڑا، بِکھر گیا کُچھ اور
وصل کی رات کاٹنے والے
ہے شبِ غم کا ذائقہ کُچھ اور
ہر طرف بھیڑ تھی طبیبوں کی
روگ بڑھتا چلا گیا کُچھ اور
کٹ گئے دھار پہ زمانے کی
ہم سے امجد نہ ہوسکا کُچھ اور
1 Comment »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^
i could not read it well bcoz of its writing.
Comment by naddiya — May 15, 2007 #