Ghazal - Aik Saraab
May 12, 2007 on 1:20 pm | In Hum Uss Kay Hein |اِک سراب سِیمیا میں رہ گئے
لوگ جو بیم و رجا میں رہ گئے
کِس شبِ نغمہ کی ہیں یہ یاد گار!
چند نوحے جو ہَوا میں رہ گئے
پی لیے کُچھ اشک پاسِ عشق نے
کچھ فشارِ التجا میں رہ گئے
کھو گئے کُچھ اشک پاسِ عشق نے
کچھ فشارِ التجا میں رہ گئے
کھو گئے کُچھ حرف و شتِ ضبط میں
کُچھ غبارِ مُدّعا میں رہ گئے
چند جستوں کا یہ سارا کھیل ہے
رہ گئے، جو ابتدا میں، رہ گئے
سبز سایہ دار پیڑوں کی طرح
رفتگاں، دشتِ وفا میں رہ گئے
حاصلِ عُمرِ رواں، وہ وقت، جو
ہم تری آب و ہَوا میں رہ گئے
ہم ہیں امجد اُن حقائق کی طرح
جو بیانِ واقعہ میں رہ گئے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^