Ghazal - Dastak Kissi Ki Hai Keh Gumaan
May 12, 2007 on 1:20 pm | In Hum Uss Kay Hein |دستک کِسی کی ہے کہ گماں دیکھنے تو دے
دروازہ ہم کو تیز ہَوا، کھولنے تو دے!
اپنے لہو کی تال پہ خواہش کے مور کو،
اے دشتِ احتیاط! کبھی ناچنے تو دے
سَودا ہے عُمر بھر کا، کوئی کھیل تو نہیں
اے چشمِ یار، مجھ کو ذرا سوچنے تو دے!
اُس حرفِ " کُن" کی ایک امانت ہے میرے پاس
لیکن یہ کائنات مجھے بولنے تودے!
شاید کِسی لکیر میں لِکّھا ہوا میرا نام
اے دوست اپنا ہاتھ مجھے دیکھنے تو دے
یہ سات آسمان کبھی مختصر تو ہوں
یہ گُھومتی زمین کہیں ٹھیرنے تو دے!
کیسے کِسی کی یاد کا چہرہ بناؤں میں!
امجد وہ کوئی نقش کبھی بُھولنے تودے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^