Ghazal - Jo Zakham Tu Nay Diyeah Thai
May 12, 2007 on 1:08 pm | In Hum Uss Kay Hein |جو زخم تُونے دیئے تھے وہ بھرتے جاتے ہیں
چڑھے ہُوئے تھے جو دریا، اُترتے جاتے ہیں
سمیٹ لے مجھے بانہوں میں اے فراق کی رات
فلک پہ دیکھ، ستارے بِکھر تے جاتے ہیں
یہ اہلِ شہرِ وفا عجب بہار پرست
سروں کے پُھول فصیلوں پہ دھرتے جاتے ہیں
نہیں ہے اور تو کُچھ بھی ہمارے ہاتھوں میں
سوائے عرضِ تمنّا، سو کرتے جاتے ہیں
عجیب لوگ ہیں یہ اہلِ انتظار کو جو
خُود اپنی آگ میں جل کر سنور تے جاتے ہیں
نجانے کون سی بستی کے ہیں یہ باشندے!
نظر اُٹھاتے نہیں اور گزرتے جاتے ہیں
یہ آج شہر پہ اُتری ہے کِس بلا کی رات
چراغ اپنی لَووں سے مُکر تے جاتے ہیں
درخت شام کو لگتے ہیں شہر سے امجد
کہ شاخ شاخ پرندے اُترتے جاتے ہیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^