Ghazal - Sab Hein Biknay Walay Haath

May 12, 2007 on 1:07 pm | In Hum Uss Kay Hein |

سب ہیں بِکنے والے ہاتھ

کیا تیرے، کیا میرے ہاتھ

لہُو نہ مُخبر ہوجائے

دیکھو اپنے اپنے ہاتھ

بول فنا کے لمحے، بول

منزل ہے اَب کِتنے ہاتھ!

رُکے نہیں اورع جُھکے نہیں

سچّی باتیں لِکھتے ہاتھ

رنگوں کی آواز سُنی

دیکھے باتیں کرتے ہاتھ!

کِس سے مِل کر جُھوما دل

کِس کو چُھو کر مہکے ہاتھ

پَوریں، جُگنو ہو جائیں

کنجِ بدن میں بھٹکے ہاتھ

اہلِ ہُنر نے دیکھو تو!

کِس کِس بھاؤ بیچے ہاتھ

مفلس کی بیٹی، قانون

چوروں کیہیں لمبے ہاتھ

کِس سے  ہیں انصاف طلب!

سِمٹی چیخیں، پھیلے ہاتھ

ہاتھوں ہاتھ نِکل جائیں

نقلی ہاتھ نِکل جائیں

چھین جھپٹ کا موسم ہے

کون لگے گا، کس کے ہاتھ

گھر کی خاطر گھر سے دُور

تھک گئے اینٹیں چُنتے ہاتھ

ریگِ رواں کا رِزق ہُوئے

صحرا صحرا، کِتنے ہاتھ

پیٹ جہنم بھرنے کو

جنّت چھوڑ کے نکلے ہاتھ

اَنت امانت مِٹّی کی

کیا مہنگے، کیا سستے ہاتھ

امجد ہاتھ سے چُھوٹا پَل

کب آتا ہے مُڑ کے ہاتھ

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^