Ghazal - Badan Say Uthti Thi Uss Kay Khushboo

May 12, 2007 on 1:06 pm | In Hum Uss Kay Hein |

بدن سے اٹھتی تھی اُس کے خوشبو، صبا کے لہجے میں بولتا تھا

یہ میری آنکھیں تھیں اُس کا بستر، وہ میرے خوابوں میں جاگتا تھا

حیا سے پلکیں جُھکی ہُوئی تھیں، ہَوا کی سانسیں رُکی ہوئی تھیں

وہ میرے سینے میں سر چُھپائے، نجانے کیا بات سوچتا تھا!

کوئی تھا چشمِ کرم کا طالب، کسی پہ شوقِ وصال غالب

سوال پھیلے تھے چار جانب، بس ایک میں تھا جو چُپ کھڑا تھا

عجیب صحبت، عجیب رُت تھی، خموش بیٹھے ہوئے تھے دونوں

میں اُس کی آواز سُن رہا تھا، ہو میری آواز سُن رہا تھا

بہار آئی تو تتلیوں کے پَروں میں رنگوں کے خواب جاگے

اور ایک بھنور ا کلی کلی کے لبوں کو رہ رہ کے چُومتا تھا

وہ اور ہوں گے کہ جن کو امجد نئے مناظر کی چاہ ہوگی

میں اُس کے چہرے کو دیکھتا ہوں، اُس کے چہرے کو دیکھتا ہوں!

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^