Ghazal - Laboon Pay Phool Khiltay Hein
May 12, 2007 on 1:04 pm | In Hum Uss Kay Hein |لبوں پہ پُھول کِھلتے ہیں کِسی کے نام سے پہلے
دِلوں کے دیپ جلتے ہیں، چراغِ شام سے پہلے
کبھی منظر بدلنے پر بھی قِصّہ چل نہیں پاتا
کہانی ختم ہوئی ہے کبھی انجام سے پہلے
یہی تارے تمھاری آنکھ کی چلمن میں رہتے تھے
یہی سُورج نکلتا تھا تُمھارے بام سے، پہلے
دِلوں کی جگمگاتی بستیاں تا راج کرتے ہیں،
بہی جو لوگ لگتے ہیں نہایت عام سے، پہلے
ہوئی ہے شام جنگل میں پرندے لوٹتے ہوں گے
اب اُن کو کِس طرح روکیں، نواحِ دام سے پہلے
یہ سارے رنگ مُردہ تھے تمھاری شکل بننے تک
یہ سارے حرف مہمل تھے تمھارے نام سے پہلے
ہُوا ہے وہ اگر مُنصف تو امجد احتیاطاً ہم
سزا تسلیم کرتے ہیں کرتے ہیں کسی الزام سے پہلے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^