Ghazal - Khizaan Ki Dhund Mein Liptay Howay Hein
May 12, 2007 on 1:03 pm | In Hum Uss Kay Hein |خزاں کی دُھند میں لپٹے ہوئے ہیں
شجر مجبوریاں پہنے ہوئے ہیں
یہ کیسی فصلِ گُل آئی چسن میں
پرندے خوف سے سہمے ہوئے ہیں
ہواؤں میں عجب سی بے کلی ہے
دِلوں کے بادباں سمٹے ہُوئے ہیں
ہمارے خواب ہیں مکڑی کے جالے
ہم اپنے آپ میں اُلجھے ہُوئے ہیں
دمکتے، گنگناتے، موسموں کے
لہو میں ذائقے پھیلے ہُوئے ہیں
مری صُورت، زمیں کے سارے منظر
رے دیدار کو ترسے ہُوئے ہیں
مثالِ نقشِ پا، حیران تیرے!
ہَوا کی راہ میں بیٹھے ہُوئے ہیں
نگاہوں سے کہو، ہم کو سمیٹیں
مِری جاں، ہم بہت بکھرے ہوئے ہیں
ادھوری خواہشوں کا غم نہ کرنا
کہ سارے خواب کب پُورے ہُوئے ہیں!
سمندر، آسماں اور سانس میرا
تری آواز پر ٹھرے ہوئے ہیں
ہر اِک رستے پہ کہتی ہیں یہ آنکھیں
یہ منظر تو کہیں دیکھے ہوئے ہیں!
ستارے آسماں کے، دیکھ امجد
کسی کی آنکھ میں اُترے ہُوئے ہیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^