Ghazal - Ashak Ankhoon Mein Aye Jaatay Hein
May 12, 2007 on 1:03 pm | In Hum Uss Kay Hein |اشک آنکھوں میں آئے جاتے ہیں
پھر بھجی ہم مُسکرائے جاتے ہیں
دشتِ بے سائباں میں، ہم تیری
یاد کے سائے سائے جاتے ہیں
کوئی سُنتا نہیں کسی کی بات
اپنی اپنی سُنائے جاتے ہیں
قصرِ شاہی سے کب رُکے وہ سوال !
جو سڑک پر اُٹھائے جاتے ہیں
ایسی جُھکتی ہیں مہرباں آنکھیں
جیسے بادل سے چھائے جاتے ہیں
نہ سہی، زور گر ہَوا پہ نہیں
ہم دیا تو جلائے جاتے ہیں
راستہ صاف ہو نہ ہو لیکن
ہم تو پتھر ہٹائے جاتے ہیں
ہم سُناتے ہیں حال دل پنا
اور وہ مُسکرائے جاتے ہیں
پھیلتی جارہی ہے تنہائی
شہر میں لوگ آئے جاتے ہیں
پردے میں ایک مُسکراہٹ کے
کتنے آنسو چھپائے جاتے ہیں
کون آیا ہے رُو برو امجد
آئنے جگمگائے جاتے ہیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^