Ghazal - Aik Ehsaas e Dil Kusha Say He
May 12, 2007 on 1:01 pm | In Hum Uss Kay Hein |ایک احساسِ دِل کُشا سے ہی
کِھل اُٹھا دِل تری صدا سے ہی
مدّعا، حرفِ نار سائی کو
مِل گیا عرضِ مدّعا سے ہی
شاخ در شاخ زندگی جاگی
موسمِ سبز کی ہَوا سے ہی
کِس قدر سلسلے نِکل آئے
لرزشِ چشمِ نیم وا سے ہی
پُھول سے، رُت سے، باغباں سے نہیں،
اپنا شکوہ تو ہے صبا سے ہی
رسم یہ حق پہ جان دینے کی
ہم نے سیکھی ہے کر بلا سے ہی
خود جیؤ، دُوسروں کو جینے دو
اپنی عادت ہے یہ سدا سے ہی
ہُنر و مرتبہ نہیں مخصوص
جُبّہ و خلعت و قبا سے ہی
کتنے ہی بے جہت نہ کیوں ہوجائیں!
اپنا رِشتہ تو ہے خُدا سے ہی
سینکڑوں بار مِل چکے ہوتے
آپ ملتے اگر دُعا سے ہی!
دَرد کی آبرو نہیں رہتی
نیّتِ حرفِ التجا سے ہی
وہ دورا ہا بھی آگیا امجد
جس کا دھڑ کا ابتدا سے ہی
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^