Ghazal - Hum Thai, Humaray Sath Koi Teesra Na Tha
May 12, 2007 on 1:00 pm | In Hum Uss Kay Hein |ہم تھے، ہمارے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا
ایسا حسین دن کہیںدیکھا سُنا نہ تھا
آنکھوں میں اُس کی تَیر رہے تھے حیا کے رنگ
پلکیں اُٹھا کے میری طرف دیکھتا نہ تھا
کُچھ ایسے اُس کی جِھیل سی آنکھیں تھیں ہر طرف
ہم کو سوائے ڈوبنے کے راستہ نہ تھا
ہاتھوں میں دیر تتک کوئی خُوشبو بسی رہی
دروازہ چمن تھا وہ بندِ قبا نہ تھا
اُس کے توانگ انگ میں جلنے لگے دِیے
جادُو ہے میرے ہاتھ میں مجھ کو پتا نہ تھا
اُس کے بدن کی لَو سے تھی کمرے میں روشنی
کھڑکی میں چاند، طاق میں کوئی دِیا نہ تھا
کل رات وہ نگار ہُوا ایسا مُلتفت
عکسوں کے درمیان، کوئی آئنہ نہ تھا
سانسوں میں تھے گلاب تو ہونٹوں پہ چاندنی
ان منظروں سے میں تو کبھی آشنا نہ تھا
رویا کچھ اس طرھ مِرے شانے سے لگ کے وہ
ایسے لگا کہ جیسے کبھی بے وفا نہ تھا
ہے عِشق ایک روگ، محبّت عذاب ہے
اِک روز یہ خراب کریں گے، کہا نہ تھا!
امجد وہاں پہ حد کوئی رہتی بھی کِس طرھ
رُکنے کو کہہ رہا تھا مگر روکتا نہ تھا
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^