Ghazal - Veerana Wajood Mein Chalna Para Hummein
May 12, 2007 on 12:59 pm | In Hum Uss Kay Hein |ویرانہ وجود میں چلنا پڑا ہمیں
اپنے لہو کی آگ مین جلنا پڑا ہمیں
منزل بہت ہی دُور تھی، رستے تھے اجنبی
تاروں کے ساتھ ساتھ نکلنا پڑا ہمیں
سایا مثال آئے تھے اُس کی گلی میں ہم
ڈھلنے لگی جو شام تو ڈھلنا پڑا ہمیں
اپنے کہے سے وہ جو ہوا منحرف، تو پھر
اپنا لکھا ہُوا بھی بدلنا پڑا ہمیں
محرابِ جاں کی شمعیں بچانے کے واسطے
ہر رات کنجِ غم میں پگھلنا پڑا ہمیں
ہم چڑھتے سُورجوں کو سلامی نہ دے سکے
سَو دوپہر کی دھوپ میں جلنا پڑا ہمیں
تھا ابتدا سے علم کہ ہے راستہ غلط
اور قافلے کے ساتھ بھی چلنا پڑا ہمیں
شانے پہ اِس اَدا سے رکھا پھر کسی نے ہاتھ
دل مانتا نہ تھا پہ بہلنا پڑا ہمیں
امجد کسی طرف بھی سہارا نہ تھا کوئی
جب گرے تو خود ہی سنبھلنا پڑا ہمیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^