Ghazal - Jahaan Kashti Ruki Mairee Kinara Aur Tha Koi
May 12, 2007 on 12:27 pm | In Hum Uss Kay Hein |جہاں کشتی رُکی میری کنارا اور تھا کوئی
جِسے میں دوست سمجھا تھا ستارا اور تھا کوئی
فلک کی بالکونی مین خُدا خاموش بیٹھا تھا
تو کیا اِن گرنے والوں کا سہارا اور تھا کوئی !
بُجھی آنکھوں کے دامن میں جمی تھی دُھول برسوں کی
وہ چہرا اب جو دیکھا ہے دوبارا، اور تھا کوئی
بہت عادل سہی مُنصِف، مگر انصاف کیسے ہو!
گواہی اور ہے، قاتل ہمارا، اور تھا کوئی!
ہَوا کی سمت دیکھی اور کشتی ڈال دی ہم نے
کُھلا آکر سمندر میں اشارا اور تھا کوئی
فضا مہکی، چمن جا گا، اچانک کھل اُٹھے تارے
کِسی کے مُسکراتے ہی نظارا اور تھا کوئی
وہی مانوس لہجہ تھا، وہی آواز تھی امجد
مگر جو مڑ کے دیکھا تو پکارا اور تھا کوئی
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^