Ghazal - Hud Say Hud e Gumaan Tuk Koi Jaa Sakta Hai
May 12, 2007 on 12:27 pm | In Hum Uss Kay Hein |حد سے حدِّ گماں تک کوئی جاسکتا ہے
ڈھونڈنے اُس کو کہاں تک کوئی جاسکتا ہے
کہکشاں کون سی، اُس حُسن کے حلقے میں نہیں!
ہاں چلا جائے، جہاں تک کوئی جا سکتا ہے
کسی مانوس سے لہجے کا اِشارا مِل جائے
معجزہ ہائے بیاں تک کوئی جاسکتا ہے
کشتی شوق ہے خطرے کے نشاں سے آگے
اور خطرے کے نشاں تک کوئی جاسکتا ہے
پھیلتے جاتے ہیں ہر سمت وہ اُڑتے گیسو
رات کے ساتھ کہاں تک کوئی جاسکتا ہے
مرتبہ میرا یہی ہے کہ زمیں زاد ہُوں میں
سو وہاں ہوں کہ جہاں تک کوئی جا سکتا ہے
راستے عِشق کے آسان نہیں ہیں، امجد
ہاں مگر جاں کے زیاں تک کوئی جا سکتا ہے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^