Ghazal - Zair e Lab Yeh Jo Tabassum Ka Diya Rakha Hai
May 12, 2007 on 12:26 pm | In Hum Uss Kay Hein |زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکّھا ہے
ہے کوئی بات جِسے تم نے چھپا رکّھا ہے
چند بے ربط سے صفحوں میں، کِتابِ جاں کے
اِک نِشانی کی طرح عہدِ وفا رکّھا ہے
ایک ہی شکل نظر آتی ہے، جاگے، سوئے
تم نے جاؤو سا کوئی مُجھ پہ چلا رکّھا ہے
یہ جو اِک خواب ہے آنکھوں میں نہنفتہ ہت پوچھ
کِس طرح ہم نے زمانے سے بچا رکّھا ہے!
کیسے خُوشبو کو بِکھر جانے سے روکے کوئی!
رزقِ غنچہ اسی گٹھڑی میں بندھا رکھا ہے
کب سے احباب جِسے حلقہ کیے بیٹھے تھے
وہ چراغ آج سرِ راہِ ہَوا، رکھا ہے
دن میں سائے کی طرح ساتھ رہا، لشکرِ گم
رات نے اور ہی طوفان اُٹھا رکھا ہے
یاد بھی آتا نہیں اب کہ گِلے تھے کیا کیا
سب کو اُس آنکھ نے باتوں میں لگا رکّھا ہے
دل میں خُوشبو کی طرح پھرتی ہیں یادیں، امجد
ہم نے اس دشت کو گُلزار بنا رکھا ہے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^