Ghazal - Marnay Ka Tairay Gham Mein

May 12, 2007 on 12:24 pm | In Hum Uss Kay Hein |

مرنے کا ترے غم میں اِرادہ بھی نہیں ہے

ہے عِشق مگر اِتنا زیادہ بھی نہیں ہے

ہے یُوں کہ عبارت کی زباں اور ہے کوئی

کاغذ مِری تقدیر کا سادا بھی نہیں ہے

کیوں دیکھتے رہتے ہیں ستاروں کی طرف ہم!

جب اُن سے ملاقات کا وعدہ بھی نہیں ہے!

کیوں راہ کے منظر میں اُلجھ جاتی ہیں آنکھیں!

جب دل میں کوئی اور ارادہ بھی نہیں ہے!

کیوں اُس کی طرف دیکھ کے پاؤں نہیں اُٹھتے

ہو شخص حسیں اِتنا زیادہ بھی نہیں ہے

کِس موڑ پہ لے آیا ہمیں ہجرِ مُسلسل!

تاحدِّ نگہ وصل کا وعدہ بھی نہیں ہے

پتّھر کی طرح سَرد ہے کیوں آنکھ کسی کی!

امجد جو بچھڑنے کا ارادہ بھی نہیں ہے

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^