Ghazal - Hum Tu Aseer e Khawb Thai

May 19, 2007 on 6:08 pm | In Hum Uss Kay Hein | No Comments

ہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھی

دیوار پر لِکھی ہُوئی تحریر جو بھی تھی

ہر فرد لا جواب تھا ، ہر نقش بے مثال

مِل جُل کے اپنی قوم کی تصویر بھی تھی !

جو سامنے ہے ، سب ہے یہ ،اپنے کیسے کا پھل

تقدیر کی تو چھوڑئیے، تقدیر جو بھی تھی

آیا اور اِک نگاہ میں برباد کر گیا

ہم اہلِ انتظار کی جاگیر جو بھی تھی

قدریں جو اپنا مان تھیں ، نیلام ہوگئیں

ملبے کے مول بِک گئی تعمیر جو بھی تھی

طالب ہیں تیرے رحم کے ہم ‘ عَدل کے نہیں

جیسا بھی اپنا جُرم تھا، تقصیر جو بھی تھی

ہاتھوں پہ کوئی زخم نہ پیروں پہ کُچھ نشاں

سوچوں میں تھی پڑی ہُوئی، زنجیر جو بھی تھی

یہ اور بات چشم نہ ہو معنی آشنا

عبرت کا ایک درس تھی تحریر جو بھی تھی

امجد ہماری بات وہ سُنتا تو ایک بار

آنکھوں سے اُس کو چُومتے، تعزیر جو بھی تھی

« Previous PageNext Page »

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^